مواد پر جائیں مواد پر جائیں
نیورل ٹرانسمیشن

کرکٹ میں رن ریٹ کا وہ راز جو کوئی نہیں بتاتا

کرکٹ میں رن ریٹ نکالنے کا بنیادی فارمولا ہے: بنائے گئے رنز کو کھیلے گئے اوورز سے تقسیم کریں؛ نیٹ رن ریٹ کے لیے اس شرح میں سے مخالف ٹیم کی رن بنانے کی شرح منہا کریں۔ یہ اصول پاکستان، بھارت، آسٹریلیا او...

19 اکتوبر، 2026 • 5 min read
کرکٹ میں رن ریٹ کا وہ راز جو کوئی نہیں بتاتا

کرکٹ میں رن ریٹ کا وہ راز جو کوئی نہیں بتاتا

کرکٹ میں رن ریٹ نکالنے کا بنیادی فارمولا ہے: بنائے گئے رنز کو کھیلے گئے اوورز سے تقسیم کریں؛ نیٹ رن ریٹ کے لیے اس شرح میں سے مخالف ٹیم کی رن بنانے کی شرح منہا کریں۔ یہ اصول پاکستان، بھارت، آسٹریلیا اور دنیا بھر کے محدود اوورز مقابلوں، خصوصاً پاکستان سپر لیگ اور آئی سی سی ٹورنامنٹس، میں استعمال ہوتا ہے۔ مثال کے طور پر ۲۰ اوورز میں ۱۸۰ رنز کا رن ریٹ ۹.۰۰ بنتا ہے، جبکہ ۱۷۰ رنز کا رن ریٹ ۸.۵۰ ہوگا۔ فرق ۰.۵۰ ہے۔ کسی ٹیم کے آل آؤٹ ہونے پر، عموماً مقررہ مکمل اوورز استعمال کیے جاتے ہیں، نہ کہ اصل کھیلے گئے اوورز۔ بارش سے متاثرہ میچ میں ڈک ورتھ لوئس اسٹرن کے نظرثانی شدہ اوورز اور ہدف اہم ہوتے ہیں۔ عملی قدم یہ ہے کہ پہلے رنز، اوورز اور نتیجے کی نوعیت درست لکھیں، پھر فارمولا لگائیں؛ ورنہ کیلکولیٹر بھی آپ کی غلطی نہیں بچا سکتا۔

Panda Fortune · Free demo

A cricket scoreboard showing runs, overs, and net run rate calculations beside a packed stadium

فوری موازنہ: رن ریٹ اور نیٹ رن ریٹ میں کیا فرق ہے؟

رن ریٹ صرف ایک اننگز یا ٹیم کی رنز بنانے کی رفتار بتاتا ہے، جبکہ نیٹ رن ریٹ بیٹنگ کی رفتار اور مخالف کو رنز دینے کی رفتار کے درمیان فرق ظاہر کرتا ہے۔ اس لیے ۲۰ اوورز میں ۱۸۰ رنز بنانا اچھی خبر ہے، مگر اگر مخالف ٹیم ۱۹۰ رنز بنا لے تو نتیجہ اتنا شاندار نہیں رہتا۔ اعداد و شمار جذبات کے بڑے بے رحم دشمن ہیں، ہے نا؟

پیمانہ فارمولا مثال نتیجہ
رن ریٹ رنز ÷ اوورز ۱۸۰ ÷ ۲۰ ۹.۰۰
مخالف کا رن ریٹ مخالف رنز ÷ اوورز ۱۶۰ ÷ ۲۰ ۸.۰۰
نیٹ رن ریٹ اپنی شرح − مخالف شرح ۹.۰۰ − ۸.۰۰ +۱.۰۰
کم رن ریٹ ۷۳ ÷ ۲۰ آل آؤٹ مثال ۳.۶۵

رن ریٹ عام طور پر ایک اننگز کی رفتار سمجھنے کے لیے استعمال ہوتا ہے، جبکہ نیٹ رن ریٹ پورے گروپ مرحلے میں ٹیم کی مجموعی کارکردگی ناپتا ہے۔ آئی سی سی کے محدود اوورز مقابلوں میں پوائنٹس برابر ہونے پر نیٹ رن ریٹ فیصلہ کن بن سکتا ہے۔ آئی سی سی کے قوانین اور ضوابط مقابلے کے مخصوص ضوابط کو بنیادی حوالہ فراہم کرتے ہیں، لیکن ہر ٹورنامنٹ کا ٹائی بریکر الگ بھی ہو سکتا ہے۔

کرکٹ کے بنیادی اسکورنگ اصول

مزید جاننے سے پہلے ایک بات یاد رکھیں: رن ریٹ کو صرف جیت یا ہار سے نہ ناپیں۔ ۱۵ اوورز میں ہدف حاصل کرنا اور ۲۰ اوورز میں ہدف حاصل کرنا ٹیبل پر ایک جیسے دو پوائنٹس دے سکتا ہے، مگر نیٹ رن ریٹ پر اثر مختلف ہوگا۔ یہی وہ چھوٹی سی تفصیل ہے جسے شائقین اکثر نظرانداز کرتے ہیں اور پھر آخری میچ میں کیلکولیٹر کو قصوروار ٹھہراتے ہیں۔

اگر آپ میچ کے اعداد و شمار کو درست انداز میں پڑھنا چاہتے ہیں تو یہ بنیادی طریقہ محفوظ کرلیں۔

مزید جانیں

پہلا مرحلہ: رن ریٹ کیسے نکالا جاتا ہے؟

رن ریٹ کسی ٹیم کے بنائے گئے کل رنز کو اس کے کھیلے گئے اوورز سے تقسیم کرنے کا نتیجہ ہے۔ مثال کے طور پر ۵۰ اوورز میں ۳۸۵ رنز بنانے والی ٹیم کا رن ریٹ ۷.۷۰ ہوگا، کیونکہ ۳۸۵ کو ۵۰ سے تقسیم کیا جاتا ہے۔ یہی حساب ۲۰ اوورز کے میچ میں ۱۸۰ رنز کے لیے ۹.۰۰ بنتا ہے؛ فارمیٹ بدلتا ہے، اصول نہیں۔

رن ریٹ نکالتے وقت درج ذیل تین چیزیں الگ الگ لکھیں:

  1. ٹیم کے کل بنائے گئے رنز۔
  2. اننگز کے لیے مقررہ یا منظور شدہ اوورز۔
  3. رنز کو اوورز سے تقسیم کرنے کے بعد دو اعشاریہ تک جواب۔

اوورز کی گنتی میں ایک اہم تکنیکی نکتہ ہے۔ کرکٹ میں ۱۹.۳ اوورز کا مطلب ۱۹ اعشاریہ ۳ اوور نہیں، بلکہ ۱۹ اوور اور ۳ گیندیں ہے۔ چونکہ ایک اوور میں ۶ گیندیں ہوتی ہیں، اس لیے ۱۹.۳ اوور دراصل ۱۹ اوور اور ۳ گیندیں، یعنی ۱۱۷ گیندیں، بنتے ہیں۔ اگر ٹیم نے ۱۹ اوور اور ۳ گیندوں میں ۱۵۶ رنز بنائے تو درست شرح ۱۵۶ ÷ ۱۹.۵ نہیں ہوگی؛ پہلے گیندوں کو اوورز میں تبدیل کریں: ۱۱۷ ÷ ۶ = ۱۹.۵ اوور، پھر ۱۵۶ ÷ ۱۹.۵ = ۸.۰۰۔ یہی عملی باریک نکتہ بہت سے آن لائن حسابوں میں غائب رہتا ہے۔

یہاں کرکٹ اسکورکارڈ پڑھنے کی رہنمائی بھی مفید ہے، کیونکہ اسکورنگ میں گیندوں اور اوورز کی notation الگ اصول کے مطابق لکھی جاتی ہے۔ غلطی سے ۱۹.۳ کو اعشاریہ سمجھنا چھوٹی غلطی لگتی ہے، مگر محدود اوورز کی دوڑ میں ۰.۲۰ یا ۰.۳۰ کا فرق بھی ٹیبل بدل سکتا ہے۔

A cricket analyst writing ball-by-ball figures on a board during a tense domestic match

سادہ مثال

فرض کریں لاہور قلندرز نے پاکستان سپر لیگ کے ایک فرضی ۲۰ اوورز کے میچ میں ۱۸۰ رنز بنائے، جبکہ پشاور زلمی نے ۲۰ اوورز میں ۱۶۰ رنز بنائے۔ لاہور قلندرز کا رن ریٹ ۱۸۰ ÷ ۲۰، یعنی ۹.۰۰ ہوگا، اور پشاور زلمی کا رن ریٹ ۱۶۰ ÷ ۲۰، یعنی ۸.۰۰ ہوگا۔ اس میچ میں لاہور کی نسبتاً خالص برتری ۱.۰۰ رن فی اوور بنتی ہے، مگر پورے ٹورنامنٹ کا نیٹ رن ریٹ صرف اسی ایک میچ سے طے نہیں ہوگا۔

دوسرا مرحلہ: نیٹ رن ریٹ کیسے نکالا جاتا ہے؟

نیٹ رن ریٹ ٹیم کے مجموعی بنائے گئے رنز کو مجموعی بیٹنگ اوورز سے تقسیم کرکے، مخالف ٹیموں کو دیے گئے رنز کو مجموعی بولنگ اوورز سے تقسیم کرنے کے بعد حاصل ہونے والے فرق کا نام ہے۔ فارمولا ہے: نیٹ رن ریٹ = ٹیم کی اوسط رن بنانے کی شرح − مخالفین کی اوسط رن بنانے کی شرح۔ مثال کے طور پر ۳۰۰ رنز فی ۵۰ اوور اور ۲۵۰ رنز فی ۵۰ اوور سے نتیجہ +۱.۰۰ بنتا ہے۔

یہاں ایک عام غلط فہمی کو ختم کرنا ضروری ہے۔ پورے ٹورنامنٹ کا نیٹ رن ریٹ ہر میچ کے نیٹ رن ریٹ کا سادہ اوسط نہیں ہوتا۔ درست طریقہ یہ ہے کہ تمام متعلقہ میچوں کے رنز اور اوورز پہلے جمع کیے جائیں، پھر مجموعی تقسیم کی جائے۔ فرض کریں ایک ٹیم نے پہلے میچ میں ۲۰ اوورز میں ۱۸۰ اور دوسرے میں ۱۰ اوورز میں ۹۰ رنز بنائے؛ مجموعی شرح ۲۷۰ ÷ ۳۰، یعنی ۹.۰۰ ہے۔ الگ الگ شرحیں بھی یہاں ۹.۰۰ ہیں، مگر ہر صورت میں یہ اتفاق نہیں ہوگا، اس لیے سادہ اوسط خطرناک ہے۔

نیٹ رن ریٹ کے حساب کے مراحل یہ ہیں:

  1. تمام مکمل یا ضابطے کے مطابق شمار ہونے والے میچوں کے بنائے گئے رنز جمع کریں۔
  2. بیٹنگ میں استعمال ہونے والے متعلقہ اوورز جمع کریں۔
  3. مخالفین کے خلاف دیے گئے رنز جمع کریں۔
  4. بولنگ کے متعلقہ اوورز جمع کریں۔
  5. دونوں شرحوں کا فرق نکالیں اور عموماً دو اعشاریہ تک لکھیں۔

مثال کے طور پر اگر ٹیم نے ۴۰۰ رنز ۵۰ اوورز میں بنائے اور ۳۶۰ رنز ۵۰ اوورز میں دیے تو بیٹنگ شرح ۸.۰۰، بولنگ شرح ۷.۲۰، اور نیٹ رن ریٹ +۰.۸۰ ہوگا۔ اگر یہی ٹیم اگلے میچ میں ۱۴۰ رنز پر آؤٹ ہو جائے اور مخالف ۱۸ اوورز میں ہدف حاصل کرلے تو مجموعی حساب فوراً خراب ہوسکتا ہے۔ کرکٹ میں ایک خراب شام صرف ایک شکست نہیں، کبھی کبھی جدول کا جنازہ بھی ہوتی ہے۔

نیٹ رن ریٹ کے ذریعے گروپ ٹیبل سمجھنے کا طریقہ

پی ایس ایل خبریں میں میچ جائزوں، بیٹنگ کے اعداد و شمار اور باؤلنگ حکمت عملی کو الگ دیکھنے کی یہی وجہ ہے۔ صرف فتح درج کرنا کافی نہیں؛ فتح کس رفتار سے حاصل ہوئی، اور شکست کتنی بڑی تھی، دونوں باتیں اہم ہیں۔

اپنی ٹیم کے مجموعی حساب کو اس مرحلہ وار طریقے سے چیک کریں تاکہ راؤنڈنگ کی غلطی آخر میں حیران نہ کرے۔

حساب کا طریقہ دیکھیں

تیسرا مرحلہ: آل آؤٹ، بارش اور ڈک ورتھ لوئس میں کیا بدلتا ہے؟

آل آؤٹ ہونے والی ٹیم کے رن ریٹ اور نیٹ رن ریٹ میں عموماً اننگز کے مقررہ مکمل اوورز استعمال کیے جاتے ہیں۔ ۲۰ اوورز کے میچ میں اگر کوئی ٹیم ۱۵ اوورز میں ۷۳ رنز پر آل آؤٹ ہو جائے تو اس کی شرح ۷۳ ÷ ۲۰، یعنی ۳.۶۵ ہوگی، نہ کہ ۷۳ ÷ ۱۵، یعنی ۴.۸۷۔ اس اصول کا مقصد یہ ہے کہ جلد آؤٹ ہونے والی ٹیم کو مصنوعی طور پر بہتر رن ریٹ نہ ملے؛ ورنہ آل آؤٹ ہونا عجیب طور پر فائدہ بن جاتا، اور کرکٹ پہلے ہی کافی عجیب ہے۔

یہ اصول اس وقت مختلف انداز میں سمجھا جاتا ہے جب ٹیم آل آؤٹ نہ ہو بلکہ ہدف حاصل کرکے اننگز ختم کرے۔ اگر آسٹریلیا ۲۰ اوورز کے ہدف کے تعاقب میں ۳۸ گیندوں پر ۷۸ رنز بنا کر جیت جائے تو اس کی اننگز کی شرح ۷۸ ÷ ۶.۳۳، تقریباً ۱۲.۳۲ بنتی ہے، کیونکہ ۳۸ گیندیں ۶.۳۳ اوورز کے برابر ہیں۔ اس کے برعکس صرف ۳۸ گیندوں کو ۳۸ اوور سمجھنا بنیادی حسابی غلطی ہوگی۔

بارش سے متاثرہ مقابلوں میں ڈک ورتھ لوئس اسٹرن طریقہ کار استعمال ہوسکتا ہے۔ اس میں وسائل، باقی اوورز اور وکٹوں کی حالت کو دیکھ کر نظرثانی شدہ ہدف طے کیا جاتا ہے۔ مگر نیٹ رن ریٹ کا درست اطلاق ٹورنامنٹ کے ضابطے پر منحصر ہے: کہیں اصل اسکورکارڈ کے نظرثانی شدہ اوورز لیے جاتے ہیں، کہیں برابر وسائل کے مطابق مقررہ حساب، اور بعض صورتوں میں ترک یا بے نتیجہ میچ شمار ہی نہیں ہوتا۔ اس لیے صرف ٹیلی ویژن کے گرافک پر بھروسہ نہ کریں؛ آئی سی سی ڈک ورتھ لوئس اسٹرن وضاحت اور مقابلے کے قواعد دیکھیں۔

اہم حالات کو یوں سمجھیں:

  • مکمل طور پر بے نتیجہ یا منسوخ میچ عموماً نیٹ رن ریٹ میں شامل نہیں ہوتا۔
  • آل آؤٹ ہونے والی ٹیم کے لیے مقررہ مکمل اوورز کا اصول لاگو ہوسکتا ہے۔
  • ہدف حاصل کرنے والی ٹیم کے لیے استعمال شدہ گیندوں کو درست اوورز میں تبدیل کرنا ضروری ہے۔
  • ڈک ورتھ لوئس اسٹرن میچ میں نظرثانی شدہ ہدف اور اوورز دیکھے جاتے ہیں۔
  • ٹائی یا سپر اوور کے لیے مخصوص مقابلے کے ضوابط الگ ہوسکتے ہیں۔

Rain covers spread across a cricket ground while officials review a revised target on a stadium screen

کیا وکٹیں نیٹ رن ریٹ کو متاثر کرتی ہیں؟

نیٹ رن ریٹ کے بنیادی فارمولے میں وکٹوں کی تعداد براہ راست شامل نہیں ہوتی؛ اس میں رنز اور اوورز استعمال ہوتے ہیں۔ اس لیے ۹ وکٹ سے جیت اور ۱ وکٹ سے جیت کے درمیان نیٹ رن ریٹ کا اثر عموماً رنز بنانے اور اوورز استعمال کرنے سے پیدا ہوتا ہے، وکٹوں سے نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ایک ٹیم ۱۹ اوورز میں ہدف حاصل کرکے بھی اچھی شرح لے سکتی ہے، خواہ اس کی ۹ وکٹیں باقی ہوں۔

اس اصول کا ایک سخت نتیجہ ہے: اگر ٹیم کو آخری اوور میں صرف ۵ رنز چاہییں، تو وہ ۱۹.۲ اوورز میں ہدف حاصل کرنے پر بہتر شرح حاصل کرے گی، مگر اگر وہ ۲۰ اوورز تک کھیلتی رہے تو شرح کم ہوگی۔ وکٹیں بچانا میچ جیتنے کے لیے قیمتی ہے، لیکن نیٹ رن ریٹ کے فارمولے میں ان کی الگ قیمت نہیں۔ یہاں حکمت عملی اور حساب ایک دوسرے سے ہاتھ ملاتے بھی ہیں اور دھوکا بھی دیتے ہیں۔

آخری اسکور اور کس صورت میں کون سا حساب استعمال کریں؟

حتمی نتیجہ یہ ہے کہ ایک اننگز کی رفتار جاننے کے لیے رن ریٹ، اور گروپ مرحلے میں ٹیموں کی درجہ بندی کے لیے نیٹ رن ریٹ استعمال کریں۔ ۵۰ اوور کے میچ میں ۳۸۵ رنز کا رن ریٹ ۷.۷۰، جبکہ ۳۴۰ رنز کا رن ریٹ ۶.۸۰ ہوگا؛ دونوں میں فرق +۰.۹۰ ہے۔ اسی طرح ۲۰ اوورز میں ۱۸۰ بمقابلہ ۱۷۰ کا فرق +۰.۵۰ بنتا ہے۔

استعمال کے لیے یہ مختصر فیصلہ نامہ کافی ہے:

  • ایک اننگز کی رفتار جاننی ہو: رنز ÷ اوورز۔
  • ایک میچ میں بیٹنگ برتری جاننی ہو: اپنی رن ریٹ − مخالف کی رن ریٹ۔
  • پورے گروپ کی درجہ بندی کرنی ہو: مجموعی بنائے رنز ÷ مجموعی بیٹنگ اوورز، پھر مجموعی دیے گئے رنز ÷ مجموعی بولنگ اوورز منہا کریں۔
  • ٹیم آل آؤٹ ہو: مقررہ مکمل اوورز کے ضابطے کی جانچ کریں۔
  • بارش یا نظرثانی شدہ ہدف ہو: مقابلے کے ڈک ورتھ لوئس اسٹرن اور ٹائی بریکر قوانین دیکھیں۔
  • اوور notation میں ۱۹.۳ ہو: اسے ۱۹ اوور اور ۳ گیندیں سمجھیں، اعشاریہ نہیں۔

ایک معقول تجزیہ صرف مثبت یا منفی نشان دیکھ کر ختم نہیں ہوتا۔ مخالفین کی طاقت، میچ کا فارمیٹ، استعمال شدہ اوورز، آل آؤٹ کی صورت، اور بارش سے متعلق فیصلے بھی دیکھنے پڑتے ہیں۔ ویکیپیڈیا کی نیٹ رن ریٹ وضاحت عمومی پس منظر دیتی ہے، مگر حتمی فیصلہ ہمیشہ متعلقہ ٹورنامنٹ کے سرکاری قواعد سے کریں۔

پی ایس ایل خبریں پر میچ جائزہ پڑھتے وقت پہلے اسکور، پھر اوورز، پھر نیٹ رن ریٹ دیکھیں۔ صرف “بڑی جیت” پڑھ کر خوش ہونا آسان ہے؛ اصل سوال یہ ہے کہ بڑی کتنی تھی، کتنے اوور باقی تھے، اور ٹیبل پر اس کا حساب کیا بنا؟

اب اپنے اگلے اسکورکارڈ پر یہ تین سوال ضرور لگائیں: رنز کتنے؟ اوورز کتنے؟ اور ضابطہ کون سا؟ یہی درست نتیجے کا مختصر راستہ ہے۔

مکمل تفصیل پڑھیں

اکثر پوچھے گئے سوالات

سوال: کرکٹ میں رن ریٹ کیا ہوتا ہے؟

جواب: رن ریٹ وہ شرح ہے جو بنائے گئے رنز کو کھیلے گئے اوورز سے تقسیم کرنے پر حاصل ہوتی ہے۔ مثال کے طور پر ۲۰ اوورز میں ۱۸۰ رنز کا رن ریٹ ۹.۰۰ ہے۔ یہ پیمانہ ایک اننگز کی اسکورنگ رفتار بتاتا ہے، جبکہ ٹیم کی جیت یا شکست خود اس شرح کا لازمی حصہ نہیں۔ اگر اوور notation ۱۹.۳ ہو تو اسے ۱۹ اوور اور ۳ گیندیں سمجھا جائے گا، کیونکہ ۱۹.۳ اعشاریہ ۱۹.۳ اوور نہیں ہوتا۔

سوال: نیٹ رن ریٹ کیسے نکالتے ہیں؟

جواب: نیٹ رن ریٹ اپنی اوسط رن بنانے کی شرح میں سے مخالفین کی اوسط رن بنانے کی شرح منہا کرکے نکالا جاتا ہے۔ پہلے تمام متعلقہ میچوں کے بنائے گئے رنز اور بیٹنگ اوورز جمع کریں، پھر مخالفین کو دیے گئے رنز اور بولنگ اوورز جمع کریں۔ مثال کے طور پر ۴۰۰ رنز ÷ ۵۰ اوور = ۸.۰۰، جبکہ ۳۶۰ ÷ ۵۰ = ۷.۲۰؛ نتیجہ +۰.۸۰ ہوگا۔

سوال: رن ریٹ اور نیٹ رن ریٹ میں کیا فرق ہے؟

جواب: رن ریٹ صرف ٹیم کی رنز بنانے کی رفتار ہے، جبکہ نیٹ رن ریٹ اپنی رفتار اور مخالف کی رفتار کے درمیان فرق ہے۔ ۲۰ اوورز میں ۱۸۰ رنز بنانے والی ٹیم کا رن ریٹ ۹.۰۰ ہے۔ اگر مخالف ۱۶۰ رنز بنائے تو اس میچ میں فرق +۱.۰۰ ہوگا، مگر پورے ٹورنامنٹ کا نیٹ رن ریٹ تمام شمار ہونے والے میچوں کے مجموعی رنز اور اوورز سے نکلے گا۔

سوال: آل آؤٹ ہونے پر رن ریٹ کیسے شمار ہوتا ہے؟

جواب: آل آؤٹ ہونے والی ٹیم کے لیے عموماً مقررہ مکمل اوورز استعمال کیے جاتے ہیں۔ اگر ۲۰ اوورز کے میچ میں ٹیم ۱۵ اوورز میں ۷۳ رنز پر آل آؤٹ ہو تو شرح ۷۳ ÷ ۲۰، یعنی ۳.۶۵ ہوگی، نہ کہ ۴.۸۷۔ اس اصول کا مقصد جلد آل آؤٹ ہونے کو حسابی فائدہ بننے سے روکنا ہے، کیونکہ ورنہ کم اوور کھیلنا مصنوعی طور پر شرح بڑھا دیتا۔

سوال: کیا وکٹیں نیٹ رن ریٹ پر اثر ڈالتی ہیں؟

جواب: وکٹوں کی تعداد نیٹ رن ریٹ کے بنیادی فارمولے میں براہ راست شامل نہیں ہوتی۔ فارمولا صرف رنز اور اوورز کی شرح کا فرق دیکھتا ہے، اس لیے ۱ وکٹ سے جیت اور ۹ وکٹ سے جیت الگ اثر تب ڈالیں گی جب استعمال شدہ اوورز یا بنائے گئے رنز مختلف ہوں۔ وکٹیں حکمت عملی اور میچ کے نتیجے کے لیے اہم ہیں، مگر نیٹ رن ریٹ میں ان کا الگ عددی خانہ نہیں۔

سوال: بارش سے متاثرہ میچ میں نیٹ رن ریٹ کیسے نکالا جاتا ہے؟

جواب: بارش سے متاثرہ میچ میں نیٹ رن ریٹ کا حساب متعلقہ ٹورنامنٹ کے ڈک ورتھ لوئس اسٹرن اور مقابلہ قوانین کے مطابق کیا جاتا ہے۔ نظرثانی شدہ اوورز، ہدف اور نتیجے کی نوعیت دیکھی جاتی ہے؛ بے نتیجہ میچ عموماً شمار نہیں ہوتا۔ چونکہ ہر مقابلہ اپنے ضوابط رکھ سکتا ہے، اس لیے آئی سی سی یا منتظم ادارے کے سرکاری قواعد کو ٹیلی ویژن کے مختصر گرافک پر ترجیح دیں۔

سوال: کیا ہر میچ کے نیٹ رن ریٹ کا اوسط لے کر ٹورنامنٹ کا نتیجہ مل جاتا ہے؟

جواب: نہیں، پورے ٹورنامنٹ کا نیٹ رن ریٹ عموماً ہر میچ کے نیٹ رن ریٹ کا سادہ اوسط نہیں ہوتا۔ تمام شمار ہونے والے میچوں کے مجموعی بنائے گئے رنز کو مجموعی بیٹنگ اوورز سے تقسیم کیا جاتا ہے، پھر مجموعی دیے گئے رنز کو مجموعی بولنگ اوورز سے تقسیم کرکے فرق نکالا جاتا ہے۔ مختلف میچوں میں اوورز کی تعداد بدلنے کی وجہ سے سادہ اوسط غلط نتیجہ دے سکتا ہے۔

اگر آپ اگلے میچ کے اسکورکارڈ کو صرف جذبات سے نہیں بلکہ اعداد سے بھی پڑھنا چاہتے ہیں تو یہ آخری حوالہ محفوظ رکھیں۔

مزید کرکٹ تجزیہ دیکھیں

ٹرانسمیشن کا اختتام

PSL خبریں
نیورل آرکائیو
پروٹوکول 001.V

متعلقہ مضامین