مواد پر جائیں مواد پر جائیں
نیورل ٹرانسمیشن

9 فیلڈنگ پوزیشنز: بہتر نتیجہ

کرکٹ فیلڈنگ پوزیشنز کے نام میدان میں کھلاڑیوں کی جگہ، ذمہ داری اور گیند کے ممکنہ راستے کو بیان کرتے ہیں۔ وکٹ کیپر، سلپ، گلی، پوائنٹ، کور، مڈ آف، مڈ آن، مڈ وکٹ، فائن لیگ اور تھرڈ مین ہر ایک کا کردار ال...

19 اکتوبر، 2026 • 5 min read
9 فیلڈنگ پوزیشنز: بہتر نتیجہ

9 فیلڈنگ پوزیشنز: بہتر نتیجہ

کرکٹ فیلڈنگ پوزیشنز کے نام میدان میں کھلاڑیوں کی جگہ، ذمہ داری اور گیند کے ممکنہ راستے کو بیان کرتے ہیں۔ وکٹ کیپر، سلپ، گلی، پوائنٹ، کور، مڈ آف، مڈ آن، مڈ وکٹ، فائن لیگ اور تھرڈ مین ہر ایک کا کردار الگ ہے، جبکہ درست تعین اوورز، بلے باز، گیند باز اور میچ کی صورت حال کے مطابق بدلتا ہے۔ ٹیسٹ کرکٹ میں ایک کپتان ۴ سے ۵ سلپ کھلاڑی رکھ سکتا ہے، مگر ٹی ٹوئنٹی میں عام طور پر تیز سنگل روکنے اور باؤنڈری بچانے کو ترجیح ملتی ہے۔ ۲۰۲۶ میں ڈیٹا پر مبنی فیلڈ سیٹنگ نے یہ واضح کیا ہے کہ صرف مشہور نام جاننا کافی نہیں؛ زاویہ، فاصلہ، ہاتھ کی سمت اور بلے باز کی شاٹ عادت بھی اہم ہیں۔ فیلڈنگ پوزیشنز یاد کرتے وقت ہر جگہ کی سمت، بنیادی کام اور خطرے کو ایک ساتھ نوٹ کریں۔

The Hand of Midas · Free demo

کرکٹ میدان میں کپتان فیلڈرز کو مختلف پوزیشنز پر ہاتھ کے اشاروں سے ترتیب دے رہا ہے

۲۰۲۵ سے پہلے: فیلڈنگ پوزیشنز کیسے کام کرتی تھیں؟

روایتی کرکٹ میں فیلڈنگ پوزیشنز کا نظام پچ، بلے باز اور گیند باز کے زاویے پر قائم تھا؛ اس کا مقصد رنز روکنا، کیچ لینا اور دباؤ پیدا کرنا تھا۔ وکٹ کے پیچھے والے حصے میں وکٹ کیپر، سلپ، گلی اور تھرڈ مین آتے ہیں، جبکہ آف سائیڈ پر پوائنٹ، کور، ایکسٹرا کور اور مڈ آف نمایاں مقامات ہیں۔ لیگ سائیڈ پر مڈ آن، مڈ وکٹ، اسکوائر لیگ، فائن لیگ اور لانگ لیگ استعمال ہوتے ہیں۔ بین الاقوامی کرکٹ کونسل کے قوانین فیلڈرز کی تعداد، اوور کے دوران پابندیوں اور کیچ کے اصولوں کی بنیاد فراہم کرتے ہیں، اگرچہ کپتان کو میدان کی ترتیب میں کافی آزادی رہتی ہے۔

یہاں عام غلط فہمی یہ ہے کہ ہر پوزیشن مستقل طور پر ایک ہی جگہ ہوتی ہے۔ حقیقت میں سلپ وکٹ سے عموماً ۱ سے ۳ میٹر کے فاصلے پر ہو سکتا ہے، جبکہ گلی اسی آف سائیڈ پر زیادہ چوڑی جگہ سنبھالتا ہے؛ یہ فاصلے پچ کی رفتار اور بلے باز کے اسٹروک کے مطابق بدلتے ہیں۔ تیز گیند باز کے خلاف وکٹ کیپر عموماً پیچھے کھڑا ہوتا ہے، لیکن اسپنر کے خلاف وہ قریب آ سکتا ہے۔ کرکٹ کے بنیادی قوانین کی رہنمائی میں یہ فرق مزید واضح کیا جا سکتا ہے، کیونکہ صرف نام یاد کرنا فیلڈنگ سمجھنے کے برابر نہیں۔

اہم روایتی پوزیشنز کو یوں یاد رکھیں:

  • سلپ: کنارے لگی گیند کا کیچ لینے کے لیے وکٹ کے برابر، آف سائیڈ پر۔
  • گلی: سلپ سے زیادہ چوڑی جگہ، کٹ یا کنارے والے شاٹ کے لیے۔
  • پوائنٹ: مربع آف سائیڈ میں، کٹ روکنے اور تیز سنگل بند کرنے کے لیے۔
  • کور: کور ڈرائیو اور آف سائیڈ کے درمیانی شاٹس کے خلاف۔
  • مڈ آف اور مڈ آن: سیدھے ڈرائیو اور ایک رن کے راستے کو کنٹرول کرنے کے لیے۔
  • مڈ وکٹ اور اسکوائر لیگ: پل، ہک اور کلائی کے شاٹس کے ممکنہ راستے پر۔
  • فائن لیگ اور تھرڈ مین: کنارے، پیڈ سے لگنے والی گیند اور باؤنڈری کے آخری حصے کو روکنے کے لیے۔

ذرا [وکٹ کیپر اور سلپ فیلڈنگ کی تکنیکیں] بھی دیکھ لیں؛ ورنہ اگلی بار کنارے کی گیند کو پوائنٹ پر ڈھونڈتے رہیں گے، اور یہ کارکردگی نہیں، میدان کا جغرافیہ بھولنا ہے۔

مزید بنیادی مثالیں دیکھنے کے لیے نیچے موجود رہنمائی کھولیں۔

مزید جانیں

۲۰۲۶ میں کیا بدلا؟

۲۰۲۶ کی فیلڈنگ حکمت عملی میں سب سے بڑا فرق ناموں کا نہیں، فیصلوں کی رفتار کا ہے۔ پاکستان سپر لیگ، بھارتی پریمیئر لیگ اور بین الاقوامی ٹی ٹوئنٹی مقابلوں میں کپتان اب بلے باز کے شاٹ نقشے، گیند کی رفتار، وکٹ کی حالت اور باقی اوورز کو ملا کر فیلڈ ترتیب دیتے ہیں۔ مثلاً بابر اعظم جیسے آف سائیڈ کے مضبوط بلے باز کے خلاف کور اور پوائنٹ کو صرف باؤنڈری کے لیے نہیں بلکہ سنگل روکنے کے لیے بھی اندر لایا جا سکتا ہے۔ اسی طرح شاہین شاہ آفریدی کی نئی گیند کے اسپیل میں سلپ اور گلی کی موجودگی کنارے کے امکان سے جڑی ہوتی ہے، محض روایت سے نہیں۔

اعداد ایک دلچسپ تضاد دکھاتے ہیں: ٹی ٹوئنٹی میں ایک باؤنڈری روکنے سے زیادہ اہم کبھی کبھی مسلسل دو سنگل روکنا ہوتا ہے، کیونکہ ۶ گیندوں کے اوور میں ہر محفوظ رن دباؤ بڑھاتا ہے۔ آخری ۵ اوورز میں لانگ آف، لانگ آن، ڈیپ مڈ وکٹ اور ڈیپ اسکوائر لیگ اکثر باؤنڈری لائن پر رہتے ہیں، مگر پاور پلے کے پہلے ۶ اوورز میں دائرے کے باہر صرف ۲ فیلڈرز کی اجازت ہوتی ہے۔ یہ پابندی ایم سی سی کرکٹ قوانین اور مقابلے کے مخصوص ضوابط سے جڑی ہے؛ اس لیے ٹی ٹوئنٹی، ایک روزہ اور ٹیسٹ فیلڈنگ کو ایک ہی سانچے میں ڈالنا بے وقوفی ہے۔

ایک کم بیان کیا جانے والا عملی نکتہ یہ ہے کہ فیلڈر کی پوزیشن صرف گیند کی لائن سے نہیں، اس کے تھرو کے زاویے سے بھی طے ہوتی ہے۔ اگر پوائنٹ پر موجود کھلاڑی دائیں ہاتھ کا ہے تو کور کی طرف اس کا ابتدائی قدم اور وکٹ کیپر تک تھرو کا وقت مختلف ہوگا؛ بائیں ہاتھ کا فیلڈر اسی شاٹ پر الگ راستہ اختیار کرے گا۔ یہی چند سیکنڈ سنگل اور ڈاٹ بال میں فرق ڈال سکتے ہیں۔ ٹی ٹوئنٹی میں فیلڈ سیٹنگ کے طریقے کے ذریعے پاور پلے، درمیانی اوورز اور آخری اوورز کو الگ سمجھنا زیادہ مفید ہے۔

پاکستان سپر لیگ کے میچ میں باؤنڈری فیلڈر تیز شاٹ روکنے کے لیے گھاس پر دوڑ رہا ہے

کھلاڑیوں کے لیے کیا بدلا ہے؟

فیلڈنگ پوزیشنز نے کھلاڑیوں سے اب صرف کیچ پکڑنے کے بجائے تین الگ مہارتیں مانگنا شروع کی ہیں: پہلی حرکت، گیند اٹھانے کی صفائی اور درست تھرو۔ جدید محدود اوورز کی کرکٹ میں ایک غلط قدم ۴ رنز دے سکتا ہے، جبکہ تیز اور کم اونچائی والا تھرو براہ راست رن آؤٹ بنا سکتا ہے۔ وکٹ کیپر کے لیے گیند کو روکنا کافی نہیں؛ اسے اسپنر کے خلاف اسٹمپنگ کے لیے ہاتھ، جسم اور دستانے کی پوزیشن بھی بدلنی ہوتی ہے۔ اسی طرح سلپ فیلڈر کو ردعمل، گلی فیلڈر کو چوڑی سمت میں حرکت، اور کور فیلڈر کو ڈائیو کے بعد فوری واپسی کی مشق درکار ہوتی ہے۔

فیلڈنگ کوچ عموماً کھلاڑیوں کو پوزیشن کے نام سے نہیں بلکہ متوقع شاٹ سے تربیت دیتے ہیں۔ مثال کے طور پر “کور پر کھڑے ہو جاؤ” سے زیادہ واضح ہدایت یہ ہے کہ “آف اسٹمپ سے باہر فل گیند پر کور ڈرائیو کا راستہ بند کرو”۔ اس طریقے سے فیلڈر کو جگہ، گیند کی لمبائی اور ممکنہ رن تینوں سمجھ آتے ہیں۔ [کرکٹ کی عالمی درجہ بندی اور اعداد] جیسے معتبر ڈیٹا صفحات سے یہ بھی دیکھا جا سکتا ہے کہ کون سا بلے باز کٹ، پل یا سیدھا ڈرائیو زیادہ کھیلتا ہے، اگرچہ اعداد کو فیصلہ سمجھنا خطرناک ہے؛ وہ صرف بہتر سوال پوچھنے میں مدد دیتے ہیں۔

میدان میں فیلڈر کی کارکردگی جانچنے کے لیے یہ فہرست استعمال کریں:

  1. گیند پھینکے جانے سے پہلے جسم کا وزن آگے ہے یا پیچھے؟
  2. ابتدائی قدم گیند کے ممکنہ زاویے کی طرف ہے؟
  3. فیلڈر ایک یا دو ہاتھ سے گیند اٹھائے گا؟
  4. وکٹ کیپر یا بولر تک تھرو کا ہدف واضح ہے؟
  5. باؤنڈری بچانے کے بعد اگلی گیند کے لیے پوزیشن فوراً بحال ہوتی ہے؟

یہاں معلوماتی فائدہ چھپی ہوئی جگہ میں ہے: بعض اوقات فیلڈر کو باؤنڈری سے ۲ سے ۴ میٹر اندر رکھنا بہتر ہوتا ہے، کیونکہ وہ چوکا روکنے کے ساتھ ایک رن بھی روک سکتا ہے۔ لیکن یہ فیصلہ گیند کی رفتار، میدان کے سائز اور بلے باز کے دوڑنے کی رفتار پر منحصر ہے۔ صرف باؤنڈری لائن پر کھڑا کھلاڑی محفوظ دکھائی دیتا ہے؛ مؤثر ضرور ہو، یہ الگ سوال ہے۔

اپنی حکمت عملی کو اعداد کے ساتھ جوڑنے کے لیے یہ اگلا وسیلہ دیکھیں۔

تفصیلات دیکھیں

اب فیلڈنگ پوزیشنز کو کیسے سمجھیں؟

اب فیلڈنگ پوزیشنز کو یاد کرنے کا مؤثر طریقہ میدان کو گھڑی کے ڈائل کی طرح دیکھنا ہے۔ وکٹ کیپر کو ۱۲ بجے کا مرکز سمجھیں، پھر آف سائیڈ پر سلپ، گلی، پوائنٹ اور کور کو گھومتی سمت میں رکھیں؛ لیگ سائیڈ پر مڈ وکٹ، اسکوائر لیگ اور فائن لیگ اسی نقشے کو مکمل کرتے ہیں۔ یہ طریقہ نئے کھلاڑی کو نام، سمت اور شاٹ کا تعلق ایک ساتھ دکھاتا ہے۔ Source: کرکٹ فیلڈنگ پوزیشنز کی عمومی وضاحت میں بھی میدان کے بنیادی حصوں کی یہی جغرافیائی منطق نظر آتی ہے، اگرچہ عملی میچ میں فاصلہ مستقل نہیں رہتا۔

فیلڈنگ سیٹ کرنے سے پہلے کپتان کو چار سوال پوچھنے چاہییں:

  • گیند باز کی بنیادی طاقت سوئنگ، سیون، اسپن یا رفتار ہے؟
  • بلے باز کا محفوظ شاٹ کون سا ہے اور خطرناک شاٹ کون سا؟
  • موجودہ اوور میں وکٹ زیادہ قیمتی ہے یا ایک رن روکنا؟
  • پوزیشن کی تبدیلی کے بعد کون سا خلا پیدا ہوگا؟

یہ آخری سوال سب سے اہم ہے، کیونکہ ایک فیلڈر کو پوائنٹ سے کور کی طرف بھیجنے سے کور ڈرائیو کا راستہ کھل سکتا ہے۔ اعداد و شمار بھی یہی بتاتے ہیں کہ فیلڈنگ سیٹ ایک جگہ کا فیصلہ نہیں بلکہ خلا کی منتقلی ہے۔ مثال کے طور پر سلپ ہٹانے سے ایک کیچنگ موقع کم ہو سکتا ہے، مگر تھرڈ مین کو اندر لا کر سنگل روکنے کا فائدہ مل سکتا ہے۔ ۲۰۲۶ میں ڈیٹا پر مبنی کپتان اسی توازن کو دیکھتے ہیں: متوقع وکٹ، متوقع رنز اور باقی گیندیں۔

پی ایس ایل خبریں پر میچ جائزوں، کھلاڑیوں کے اعداد و شمار، بیٹنگ اور باؤلنگ حکمت عملی کو پڑھتے وقت فیلڈنگ نقشے پر بھی توجہ دیں۔ اس سے معلوم ہوگا کہ کپتان نے مڈ آف کیوں اندر رکھا، فائن لیگ کیوں پیچھے کیا، یا سلپ کیوں صرف دو اوورز کے لیے موجود رہی۔ پی ایس ایل میچ تجزیے اور کھلاڑیوں کے اعداد میں یہی سیاق و سباق کسی بھی اسکورکارڈ سے زیادہ واضح ہو سکتا ہے۔

کرکٹ کوچ سفید بورڈ پر وکٹ کے گرد سلپ، کور، مڈ وکٹ اور فائن لیگ کا نقشہ بنا رہا ہے

اگلی سہ ماہی کے لیے تین پیش گوئیاں

اگلے تین ماہ میں فیلڈنگ کے رجحانات کے بارے میں تین مضبوط امکانات سامنے آتے ہیں۔ پہلا، ٹی ٹوئنٹی میں “فکسڈ پوزیشن” مزید کم ہوگی، کیونکہ بلے بازوں کی شاٹ رینج اور ریورس ہٹنگ کپتانوں کو ہر گیند پر معمولی تبدیلی پر مجبور کرتی ہے۔ دوسرا، بائیں اور دائیں ہاتھ کے امتزاج کے خلاف فیلڈنگ نقشہ زیادہ تیزی سے بدلے گا؛ ایک ہی اوور میں پوائنٹ، مڈ وکٹ اور تھرڈ مین کی ترجیحات تبدیل ہونا اب غیر معمولی نہیں۔ تیسرا، فیلڈر کی قدر صرف کیچوں سے نہیں بلکہ روکے گئے رنز، تھرو کے معیار اور غلطی کے بعد بحالی کے وقت سے بھی ناپی جائے گی۔

ممکنہ سمتیں یہ ہیں:

  1. پاور پلے میں متحرک کیچنگ فیلڈ: نئی گیند کے سوئنگ کے دوران سلپ اور گلی کو مختصر مگر واضح مواقع مل سکتے ہیں۔
  2. درمیانی اوورز میں سنگل کنٹرول: پوائنٹ، کور، مڈ وکٹ اور اسکوائر لیگ کی اندرونی پوزیشنیں دباؤ بڑھائیں گی۔
  3. آخری اوورز میں زاویہ بند کرنا: لانگ آف، لانگ آن، ڈیپ مڈ وکٹ اور فائن لیگ باؤنڈری کے بجائے شاٹ کے زاویے کے مطابق ہلیں گے۔

یہ پیش گوئیاں کسی جادوئی الگورتھم کا دعویٰ نہیں؛ کرکٹ میں پچ، موسم، گیند اور کھلاڑی ہر دن اعداد کو چھیڑ دیتے ہیں۔ مگر بنیادی اصول واضح ہے: جس فیلڈنگ پوزیشن کا تعلق متوقع شاٹ اور رن کے خطرے سے ثابت ہو، وہ صرف نام یاد رکھنے والی پوزیشن سے زیادہ مفید ہے۔ شائقین کے لیے بہترین مشق یہ ہے کہ میچ دیکھتے وقت ہر گیند پر فیلڈ کا نقشہ نوٹ کریں اور پوچھیں کہ کپتان نے کس خطرے کو ترجیح دی۔

خلاصہ یہ ہے کہ کرکٹ فیلڈنگ پوزیشنز کے نام یاد کرنا پہلا قدم ہے، اصل مہارت ان کے مقصد، فاصلے اور تبدیلی کو سمجھنا ہے۔ وکٹ کیپر سے لانگ آن تک ہر فیلڈر ٹیم کے رنز، کیچ اور دباؤ میں حصہ ڈالتا ہے۔ اب اپنے اگلے میچ میں صرف گیند نہ دیکھیں؛ میدان بھی پڑھیں۔

اگر آپ روزانہ کرکٹ حکمت عملی کا مختصر مگر مفید تجزیہ چاہتے ہیں تو یہ وسیلہ ملاحظہ کریں۔

رہنمائی حاصل کریں

عام سوالات

سوال: کرکٹ فیلڈنگ پوزیشنز کے نام کون سے ہیں؟

جواب: اہم فیلڈنگ پوزیشنز میں وکٹ کیپر، سلپ، گلی، پوائنٹ، کور، ایکسٹرا کور، مڈ آف، مڈ آن، مڈ وکٹ، اسکوائر لیگ، فائن لیگ، تھرڈ مین، لانگ آف اور لانگ آن شامل ہیں۔ ہر جگہ کا نام وکٹ کے مقابلے میں اس کے زاویے اور فاصلے سے متعلق ہے۔ ٹیسٹ، ایک روزہ اور ٹی ٹوئنٹی میں یہی نام رہتے ہیں، مگر فیلڈرز کی عملی جگہ بدلتی رہتی ہے۔

سوال: سلپ اور گلی فیلڈنگ میں کیا فرق ہے؟

جواب: سلپ وکٹ کے نسبتاً قریب آف سائیڈ پر ہوتا ہے، جبکہ گلی اس سے زیادہ چوڑی سمت میں کھڑا کیا جاتا ہے۔ سلپ کا بنیادی کام بیٹ کا باریک کنارہ پکڑنا ہے، جبکہ گلی کٹ، اوپری کنارے اور چوڑے ایج کے مواقع دیکھتا ہے۔ تیز گیند، سوئنگ اور بلے باز کی تکنیک کے مطابق دونوں کے درمیان فاصلہ تبدیل کیا جا سکتا ہے۔

سوال: پوائنٹ، کور اور مڈ آف میں کیا فرق ہے؟

جواب: پوائنٹ مربع آف سائیڈ میں کٹ روکنے، کور ڈرائیو کے لیے ہوتا ہے، جبکہ مڈ آف سیدھے ڈرائیو کے سامنے نسبتاً آگے یا پیچھے کھڑا ہوتا ہے۔ کور عموماً پوائنٹ اور مڈ آف کے درمیان وسیع آف سائیڈ حصے کو سنبھالتا ہے۔ اگر بلے باز آف سائیڈ پر مضبوط ہو تو یہ تینوں پوزیشنز سنگل اور باؤنڈری دونوں روکنے میں اہم بن جاتی ہیں۔

سوال: فیلڈنگ پوزیشن کیسے منتخب کی جاتی ہے؟

جواب: فیلڈنگ پوزیشن گیند باز کی قسم، بلے باز کے پسندیدہ شاٹ، اوور کی صورتحال اور میدان کے سائز سے منتخب کی جاتی ہے۔ کپتان پہلے متوقع خطرناک شاٹ طے کرتا ہے، پھر کیچنگ، سنگل روکنے اور باؤنڈری بچانے کے درمیان توازن بناتا ہے۔ پاور پلے میں دائرے سے باہر فیلڈرز کی حد، جبکہ آخری اوورز میں باؤنڈری کی حفاظت فیصلہ بدل سکتی ہے۔

سوال: اگر فیلڈر غلط جگہ کھڑا ہو تو کیا مسئلہ ہوتا ہے؟

جواب: غلط جگہ کھڑا فیلڈر ایک آسان سنگل، چوکا یا کیچ کا موقع ضائع کر سکتا ہے۔ مثال کے طور پر پوائنٹ بہت پیچھے ہو تو کٹ شاٹ پر ایک رن آسان ہو جاتا ہے، اور بہت اندر ہو تو گیند اس کے اوپر سے باؤنڈری جا سکتی ہے۔ کپتان کو گیند کی لمبائی، بلے باز کے قدم اور موجودہ رن ریٹ دیکھ کر فوری اصلاح کرنی چاہیے۔

سوال: کیا فیلڈنگ پوزیشنز یاد کرنے کے لیے کوئی آسان طریقہ ہے؟

جواب: میدان کو وکٹ کیپر کے گرد گھڑی کے ڈائل کی طرح دیکھنا سب سے آسان طریقہ ہے۔ پہلے وکٹ کیپر، سلپ، گلی، پوائنٹ، کور، مڈ آف اور مڈ آن یاد کریں، پھر لیگ سائیڈ پر مڈ وکٹ، اسکوائر لیگ، فائن لیگ اور لانگ لیگ شامل کریں۔ ہر پوزیشن کے ساتھ ایک بنیادی شاٹ اور ایک ذمہ داری لکھنے سے یادداشت زیادہ مضبوط رہتی ہے۔

سوال: فیلڈنگ پوزیشنز میں ۲۰۲۶ کا اہم رجحان کیا ہے؟

جواب: ۲۰۲۶ کا اہم رجحان ڈیٹا پر مبنی متحرک فیلڈ سیٹنگ ہے، جس میں کپتان بلے باز کے شاٹ نقشے، گیند باز کی لائن اور باقی اوورز کے مطابق جگہ بدلتا ہے۔ ٹی ٹوئنٹی میں پاور پلے کے ۶ اوورز اور آخری ۵ اوورز الگ حکمت عملی مانگتے ہیں۔ اس لیے فیلڈر کو صرف اپنی جگہ نہیں، اگلی ممکنہ گیند اور تھرو کا زاویہ بھی سمجھنا چاہیے۔

فیلڈنگ کی مزید عملی مثالیں پڑھنے کے لیے آخری رہنمائی یہاں حاصل کریں۔

ابھی مزید جانیں

ٹرانسمیشن کا اختتام

PSL خبریں
نیورل آرکائیو
پروٹوکول 001.V

متعلقہ مضامین